عوام قربانی دیں اور اشرافیہ مراعات لے یہ قابل قبول نہیں: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یہ صورتحال قابل قبول نہیں ہو سکتی کہ عوام قربانیاں دیں جبکہ اشرافیہ مراعات سے فائدہ اٹھاتی رہے۔
وزیراعظم سے مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ نے ملاقات کی، جس میں انہوں نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے بجٹ اجلاس میں ان کی فعال شرکت پر اظہارِ تشکر کیا۔ ملاقات کے دوران ملکی بجٹ، معیشت کی مجموعی صورتحال، علاقائی پیش رفت اور عوامی فلاح سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق بجٹ میں خواتین کی معاشی خودمختاری اور انہیں قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے متعدد عملی اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جبکہ خواتین کو بااختیار بنانا حکومت کی بنیادی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔
خطے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل سے خطے میں کشیدگی کم ہوئی ہے اور امن کے قیام کی کوششیں کامیاب رہی ہیں۔ انہوں نے اس عمل میں تعاون کرنے والے دوست ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا۔
شہباز شریف کے مطابق حکومت پاکستان، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور پوری حکومتی ٹیم نے خلوص نیت کے ساتھ خطے میں امن کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار امن ہی خطے اور دنیا کی معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔ حکومت نے گزشتہ مہینوں میں مہنگائی کے عالمی دباؤ کے اثرات کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے، جن کے باعث نہ کسی بڑے بحران نے جنم لیا اور نہ ہی ایندھن کی قلت یا طویل قطاروں جیسے مسائل پیدا ہوئے۔
وزیراعظم نے مزید بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے عوام کو مشکلات سے محفوظ رکھا گیا اور کم و متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے ایک تاریخی ریلیف پیکیج بھی فراہم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کفایت شعاری کو اپناتے ہوئے سب سے پہلے قربانی کا آغاز حکومتی کابینہ اور سرکاری اداروں سے کیا گیا، کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ بوجھ صرف عوام پر ڈالا جائے اور اشرافیہ مراعات سے مستفید ہوتی رہے۔
شہباز شریف کے مطابق حکومت نے 128 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی اور کفایت شعاری مہم کے ذریعے اخراجات میں کمی لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہترین تعاون کے باعث معیشت کو استحکام ملا، جس پر وہ تمام صوبائی حکومتوں کے شکر گزار ہیں، جبکہ اس پورے عمل میں عوام کا تعاون بھی انتہائی اہم رہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود ایک عوام دوست بجٹ پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور برآمدات پر مبنی معیشت کو مضبوط کرنا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ مالی سال میں حکومت کی خصوصی توجہ آبی ذخائر، آئی ٹی، زراعت اور معدنی وسائل کے شعبوں پر مرکوز رہے گی تاکہ معیشت کو دیرپا بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امن کی بحالی کے بعد اس کے مثبت معاشی اثرات بھی عوام تک پہنچیں گے۔ یہ تمام اقدامات “ٹیم پاکستان” کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہیں، جو ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
ملاقات میں شریک خواتین ارکانِ پارلیمنٹ نے خطے میں امن کے قیام کے لیے وزیراعظم اور حکومت کی کوششوں کو سراہا اور بجٹ میں خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات کو بھی مثبت قرار دیا۔
ارکان نے اپنے حلقوں سے متعلق عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ تجاویز پر بھی روشنی ڈالی۔ اجلاس میں تعلیم، صحت، نوجوانوں کے روزگار، صنعت، مواصلات، غذائی تحفظ اور دیگر اہم شعبوں میں بہتری کے لیے مختلف سفارشات پیش کی گئیں۔
اس موقع پر سیدہ نوشین افتخار، بیگم تہمینہ دولتانہ، شائستہ خان، طاہرہ اورنگزیب، شائستہ پرویز، منیبہ اقبال، نزہت صادق، مسرت آصف خواجہ، رومینہ خورشید عالم، زیب جعفر، کرن عمران ڈار، زہرہ ودود فاطمی، آسیہ ناز تنولی، صبا صادق، فرح ناز اکبر، شہناز سلیم ملک، زینب محمود بلوچ، کرن حیدر، اختر بی بی، غزالہ انجم، مس شاہین، ثمر ہارون بلور، سعیدہ جمشید، تمکین اختر نیازی، سائرہ تارڑ، ہما اختر چغتائی، ماہ جبین خان عباسی، گلناز شہزادی، شمائلہ رانا، شازیہ فرید، سیدہ آمنہ بتول، رابعہ نسیم فاروقی، ارم حامد حمید اور نیلم سمیت متعدد ارکان شریک تھیں۔
اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، وزیر برائے امور عامہ یونٹ رانا مبشر اقبال، وزرائے مملکت شزرا منصب علی خان کھرل، وجیہہ قمر اور معاون خصوصی طلحہ برکی بھی موجود تھے۔