اسلام آباد:ملک میں مسلسل ادارہ جاتی اصلاحات کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں کرپشن پرسیپشن انڈیکس (CPI) میں پاکستان کی رینکنگ اور مجموعی اسکور میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2025 جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق 2024 کے مقابلے میں پاکستان کے مجموعی اسکور میں ایک پوائنٹ کا اضافہ ہوا ہے اور اسکور بڑھ کر 28 ہو گیا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ایک درجہ بہتری کے ساتھ 136ویں پوزیشن پر آ گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چار برس کے دوران گڈ گورننس، پالیسی تسلسل اور مسلسل ادارہ جاتی اصلاحات کے باعث پاکستان کے اسکور میں بہتری کا رجحان برقرار رہا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں پبلک سیکٹر، انتظامی ڈھانچے، قانون ساز اداروں اور عدلیہ میں بدعنوانی کے اعشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔
خصوصی طور پر انتظامی بدعنوانی اور عدالتی کرپشن سے متعلق اشاریوں میں 5 پوائنٹس تک بہتری ریکارڈ کی گئی، جو اصلاحاتی اقدامات کی مؤثر عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں سروے کے دائرہ کار میں دو مزید ممالک کو شامل کیا گیا، جس کے بعد 2024 میں شامل 180 ممالک کے مقابلے میں 2025 میں مجموعی طور پر 182 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کا جائزہ لیا گیا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے واضح کیا ہے کہ 2021 سے 2025 کے دوران پاکستان میں بدعنوانی کے تاثر میں مجموعی طور پر نمایاں کمی آئی ہے اور گزشتہ چار برس میں ملک کی عالمی رینکنگ میں چار درجے بہتری ہوئی ہے۔ ادارے کے مطابق پاکستان نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے مربوط، ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کیے ہیں۔
اس سے قبل دسمبر 2025 میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی سالانہ رپورٹ میں بھی بتایا گیا تھا کہ تین میں سے دو پاکستانی شہریوں کو سرکاری اداروں میں کبھی بدعنوانی یا بے ضابطگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
اسی طرح گزشتہ ہفتے ایف پی سی سی آئی کے تعاون سے آئی پی ایس او ایس کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق 67 فیصد پاکستانیوں نے بدعنوانی اور 76 فیصد شہریوں نے اقربا پروری کا سامنا نہ ہونے کی تصدیق کی۔ اس رپورٹ میں بھی عالمی سطح پر بدعنوانی کے تاثر کا جائزہ لیتے ہوئے 182 ممالک کو شامل کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پاکستان کے 135 سرکاری اداروں میں 600 سے زائد کامیاب اصلاحات نافذ کی گئیں، جن کی تفصیلات حال ہی میں جاری کی گئی پاکستان ریفارمز رپورٹ میں شامل ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بدعنوانی کے تاثر کو کم کرنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کو ترجیح دی جائے، جبکہ یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان گزشتہ چار برس میں انہی اصلاحات کے ذریعے بدعنوانی کے تاثر میں چار درجے نمایاں بہتری لانے میں کامیاب رہا ہے۔