خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کی سرحد پر افغانستان سے آنے والے چار ڈرونز کو پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے بروقت نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاکستان کی فضائی حدود اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 30 جون کو افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقے سے چار ڈرونز پاکستان کی جانب بھیجے گئے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ان ڈرونز کو پاکستان دشمن دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، تاہم پاکستانی دفاعی نظام نے فوری طور پر ان کی نشاندہی کی اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے چاروں ڈرونز کو مار گرایا۔
فضائی دفاعی نظام کی بروقت کارروائی
فوج کے مطابق پاکستان کا فضائی دفاعی نیٹ ورک مکمل طور پر فعال اور ہر وقت الرٹ ہے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے تمام عزائم ناکام بنا دیے اور کسی بھی ڈرون کو اپنے ہدف تک پہنچنے نہیں دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی افواج ملک کی فضائی اور زمینی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
افغان طالبان کو سخت پیغام
آئی ایس پی آر نے افغان طالبان پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے انہیں سرپرستی فراہم کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان کا غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل نہ صرف خطے کے امن بلکہ افغان عوام کے مفادات کے بھی خلاف ہے۔
پاکستانی فوج نے افغان طالبان پر زور دیا کہ وہ پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کریں، دہشت گرد گروہوں کی معاونت ترک کریں اور سرحدی اشتعال انگیزی سے باز رہیں۔
“بھاری قیمت چکانا پڑے گی”
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کے خلاف اس نوعیت کی اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو ان کا مؤثر، فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جس کی “بھاری قیمت” چکانا پڑے گی۔
فوج نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج وطنِ عزیز کے ایک ایک انچ کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور سرحد پار کسی بھی جارحیت کا جواب “آپریشن غضبُ الحق” کے تحت بھرپور انداز میں دیا جاتا رہے گا۔
سرحدی صورتحال پر بڑھتی تشویش
دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق حالیہ واقعہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور باہمی اعتماد کی بحالی دونوں ممالک کے لیے اہم چیلنج بن چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد سفارتی رابطوں اور سرحدی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔
عوامی ردعمل
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد نے پاک فوج کے فضائی دفاعی نظام اور بروقت کارروائی کو سراہا۔ کئی صارفین نے قومی سلامتی کے تحفظ پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ بعض حلقوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی زور دیا۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق سرحدی سلامتی پاکستان کی قومی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے، اور حالیہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فضائی نگرانی اور دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل فعال رکھا جا رہا ہے۔ تاہم خطے میں پائیدار امن کے لیے صرف عسکری تیاری کافی نہیں، بلکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مؤثر سفارتی رابطے، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور اعتماد سازی بھی ناگزیر ہیں۔
آپ کی اس پیش رفت پر کیا رائے ہے؟ کیا سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے مزید سفارتی اقدامات ہونے چاہییں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔