اسلام آباد: ملک میں ایچ آئی وی/ایڈز اور ہیپاٹائٹس سی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے ناقص اور غیر محفوظ سرنجوں کی تیاری، فروخت اور استعمال کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم کی زیر صدارت جمعے کو متعدی امراض کی روک تھام سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں ملک بھر میں بیماریوں کے پھیلاؤ کی موجودہ صورت حال اور حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والی سرنجوں کی تیاری اور استعمال فوری طور پر روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سرنجیں استعمال کرنے والے افراد، اسپتالوں اور غفلت کے ذمہ دار حکام کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
وزیراعظم نے متعدی امراض سے نمٹنے کے لیے طبی اور قانونی ماہرین پر مشتمل خصوصی کمیٹی بنانے کا بھی حکم دیا۔ کمیٹی صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد قومی سطح پر مؤثر حکمت عملی مرتب کرے گی۔
انہوں نے وزارت قانون کو ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں کے تعاون سے موجودہ قوانین اور ضابطوں کا جائزہ لے کر ضروری ترامیم تجویز کی جائیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صحت عامہ کے اس سنگین مسئلے کا مستقل حل جامع پالیسی اور اس پر یکساں عمل درآمد میں ہے۔
شہباز شریف نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کو طبی آلات بنانے والی صنعت سے مشاورت کرنے اور سرنجوں کے ذریعے بیماریوں کی منتقلی روکنے کے لیے قابل عمل پالیسی تیار کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں طبی آلات کی مقامی تیاری، صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی عالمی معیار کے مطابق تربیت اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد برتھ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، عالمی فنڈ کی نمائندہ، صحت عامہ کے ماہرین، ڈریپ حکام اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
شرکا کو خصوصی ٹاسک فورس اور وزارت قومی صحت کی جانب سے ایڈز، ہیپاٹائٹس سی اور دیگر متعدی بیماریوں کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ بھی دی گئی۔