وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر عوام کے لیے مزید ریلیف کے اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے، اور حکومت کے بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیش نظر معاشی استحکام قائم رکھنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے بروقت فیصلوں کی بدولت عوام کو تیل کی مسلسل فراہمی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں اور ان پر مزید کام جاری ہے۔
وزیراعظم نے کفایت شعاری اور بچت کے تمام نافذ العمل اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت پہلے ہی جاری کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام اور عوام کے لیے ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہیں، اور تمام اقدامات نہ صرف فوری ریلیف بلکہ طویل مدتی معاشی استحکام کو بھی مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کار کمپنیوں کو حکومت کے تعین کردہ نرخوں پر تیل کی فروخت یقینی بنانا ہوگی اور اس عمل میں مکمل شفافیت برقرار رکھی جائے۔
اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں موجود تیل کے ذخائر، فیول کی طلب پوری کرنے کے لیے درآمدات اور عالمی کشیدگی کے پیش نظر عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت پاکستان پیٹرولیم مصنوعات کی متعین قیمت پر فروخت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، اور اس کے لیے پاک ایپ میں صارفین کے لیے ایک نیا فیچر شامل کیا گیا ہے۔ اب صارفین ملک کے کسی بھی حصے میں تیل کی کمی یا مہنگے داموں فروخت کے حوالے سے متعلقہ حکام کو براہ راست آگاہ کر سکتے ہیں، جس پر حکومت فوری اقدامات کرے گی۔
اجلاس کے شرکاء نے وزیراعظم کے گزشتہ جمعہ کے فیصلے کو سراہا، جس میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔