تہران:ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی جانب سے تیار کردہ ایک جامع امن منصوبہ دونوں ممالک کی قیادت تک پہنچا دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان نے ایک مفصل فریم ورک تہران اور واشنگٹن کو پیش کیا ہے، جس میں فوری جنگ بندی اور اس کے بعد ایک جامع اور دیرپا معاہدے کی تجاویز شامل ہیں۔
منصوبے کے اہم نکات کے مطابق جنگ بندی کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔ اس کے علاوہ 45 روزہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں حتمی مذاکرات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جہاں فریقین مستقل امن معاہدے کو حتمی شکل دے سکتے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اس سلسلے میں اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کیے۔
مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کے بدلے بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے اقدامات بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ امن معاہدے کو “اسلام آباد اکارڈ” کا نام دیا جا رہا ہے، جس کے ابتدائی مرحلے میں آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کو کلیدی حیثیت حاصل ہوگی۔
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے اس منصوبے پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ادھر ایران نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ تجاویز موصول ہو چکی ہیں۔ ایک ایرانی عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی سے متعلق اس تجویز کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم تہران کسی قسم کی ڈیڈ لائن یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں، اور ان کے نزدیک امریکا میں مستقل جنگ بندی کے لیے درکار سنجیدگی اور تیاری کا فقدان پایا جاتا ہے۔