ساٹھ سالہ حکیم نے اپنی شادی کی داستان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر دی

گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک 60 سالہ حکیم کی کم عمر خاتون سے شادی کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی، جس پر بزرگ دولہا نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اس رشتے کی بنیاد پہلے محبت پر رکھی گئی اور بعد ازاں باقاعدہ نکاح کیا گیا۔

وائرل ویڈیو نے صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی، جہاں مختلف دلچسپ اور متضاد تبصرے دیکھنے میں آئے۔ اسی تناظر میں ایک رپورٹر نو بیاہتا جوڑے کا مؤقف جاننے کے لیے ان کے پاس پہنچا۔

انٹرویو کے دوران 60 سالہ حکیم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ان کی شادی کو بیک وقت ارینج میرج اور لو میرج کہا جا سکتا ہے، کیونکہ پہلے باہمی پسندیدگی پیدا ہوئی اور پھر گھر والوں کی رضامندی سے نکاح انجام پایا۔


ان کی اہلیہ، جو اس موقع پر ان کے ہمراہ موجود تھیں، نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا رشتہ واقعی باہمی محبت اور رضا مندی پر قائم ہوا۔

بزرگ دولہا کا کہنا تھا کہ اصل اہمیت دل کی جوانی کو حاصل ہے، عمر محض ایک عدد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ طلاق یافتہ تھیں اور انہوں نے اللہ کے حکم اور حضور نبی اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے نکاح کا فیصلہ کیا، جس میں کوئی قباحت نہیں۔

انہوں نے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے کوئی غیر شرعی عمل نہیں کیا بلکہ جائز طریقے سے نکاح کیا ہے تو منفی تبصروں کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تنقید وہی لوگ کرتے ہیں جو خود غیر سنجیدہ تعلقات میں ملوث رہتے ہیں اور نکاح کی ذمہ داری سے گریز کرتے ہیں، جبکہ وہ اس رشتے کو ایک باعزت اور شرعی بندھن سمجھتے ہیں۔

دلہن نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب دل کسی کو قبول کر لے تو عمر کی قید بے معنی ہو جاتی ہے، اور سچی محبت کی صورت میں نکاح میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ وائرل ویڈیو میں دلہن کو نہایت خوش اور مطمئن دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اہل خانہ بھی اس نئے بندھن پر مسرت کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب، متعدد سوشل میڈیا صارفین نے اس اقدام کو مثبت قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ معاشرے میں زنا کے بجائے نکاح کو فروغ دیا جانا چاہیے اور نکاح کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔