یو اے ای کے بعد ایک اور اسلامی ملک ’غزہ بورڈ آف پیس‘ معاہدے میں شامل

لاہور:متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امریکا کی جانب سے دی گئی دعوت قبول کر لی ہے۔
بحرین کی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکا کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت شاہِ بحرین حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے باضابطہ طور پر قبول کر لی ہے۔
بحرینی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مملکتِ بحرین کا یہ فیصلہ غزہ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کے عزم کا مظہر ہے، کیونکہ اس منصوبے کو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق بحرین کو امید ہے کہ بورڈ آف پیس اپنے مقررہ اہداف حاصل کرے گا، جن میں باہمی تعاون کا فروغ، خطے میں استحکام کی حمایت اور تمام اقوام کے لیے ترقی اور خوشحالی کا حصول شامل ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا مختلف عالمی رہنماؤں پر زور دے رہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس بورڈ کا حصہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق بورڈ کے رکن ممالک کی مدتِ رکنیت زیادہ سے زیادہ تین سال ہوگی، جبکہ مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر فیس بھی مقرر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت قائم بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی تھی، جبکہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دے رکھی ہے۔