مریم اورنگزیب نے وزن کیسے کم کیا والدہ نے بتا دیا؟

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی حالیہ تصاویر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ نئی تصاویر میں ان کے وزن میں نمایاں کمی کو دیکھتے ہوئے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، تاہم اب اس معاملے پر ان کی والدہ طاہرہ اورنگزیب کا باقاعدہ ردِعمل بھی سامنے آ گیا ہے، جس کے بعد صورتحال کافی حد تک واضح ہو گئی ہے۔

طاہرہ اورنگزیب نے اپنی بیٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم اورنگزیب گزشتہ دو سے تین ماہ سے انتہائی سخت ڈائٹ پر ہیں، جس پر انہوں نے خود بھی انہیں کئی بار منع کیا۔ ان کے مطابق مریم اورنگزیب اس دوران زیادہ تر چائے اور کافی پر گزارا کر رہی تھیں، جس کے باعث ان کے وزن میں کمی آئی ہے۔ طاہرہ اورنگزیب نے واضح کیا کہ ان کی بیٹی نے کسی قسم کی کوئی سرجری یا طبی عمل نہیں کروایا بلکہ یہ تبدیلی محض سخت ڈائٹ کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص مسلسل محدود خوراک استعمال کرے تو جسمانی ساخت میں تبدیلی آنا ایک فطری عمل ہے، تاہم ایک ماں ہونے کے ناطے وہ اس قدر سخت ڈائٹ کے حق میں نہیں تھیں اور انہوں نے بیٹی کو صحت کا خاص خیال رکھنے کی تلقین بھی کی۔ طاہرہ اورنگزیب نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ خواتین سیاست دانوں کی ظاہری شکل و صورت کو غیر ضروری طور پر موضوعِ بحث بنایا جاتا ہے، جبکہ اصل توجہ ان کی کارکردگی اور خدمات پر ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ مریم اورنگزیب کی نئی تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے دیکھنے میں آئے، جن میں بعض صارفین نے حیرت کا اظہار کیا جبکہ کچھ حلقوں کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ قیاس آرائیاں بھی کی گئیں۔ تاہم والدہ کے بیان کے بعد ان تمام افواہوں کی تردید ہو گئی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مریم اورنگزیب نہ صرف ایک متحرک سیاست دان ہیں بلکہ وہ حکومتی پالیسیوں کے دفاع اور میڈیا سے رابطے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی مصروف سیاسی زندگی، مسلسل عوامی رابطے اور دباؤ کے ماحول میں جسمانی تبدیلی کو غیر معمولی بنا کر پیش کرنا درست نہیں۔

دوسری جانب، خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم حلقوں نے بھی اس بحث پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین سیاست دانوں کو بار بار ان کی ظاہری تبدیلیوں کی بنیاد پر نشانہ بنانا ایک غیر صحت مند رجحان ہے، جس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔

طاہرہ اورنگزیب کے بیان کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مریم اورنگزیب کی ظاہری تبدیلی کسی مصنوعی طریقۂ کار کا نتیجہ نہیں بلکہ محض ایک سخت ڈائٹ کا اثر ہے۔ اہلِ خانہ کی جانب سے صحت سے متعلق تشویش بھی سامنے آ چکی ہے، جس کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ غیر ضروری بحث کا سلسلہ اب ختم ہو جائے گا۔