اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ کے جدید لڑاکا طیارے جے ایف 17 تھنڈر میں عالمی سطح پر غیر معمولی دلچسپی پیدا ہو چکی ہے اور کئی ممالک اس طیارے کی خریداری کے لیے آمادگی ظاہر کر رہے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کے بعد جے ایف 17 تھنڈر کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس کی اہمیت اب کئی یورپی ساختہ جنگی طیاروں سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جے ایف 17 تھنڈر نے اپنی کارکردگی، جدید ٹیکنالوجی، کم لاگت اور موثر صلاحیتوں کے باعث دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان دفاعی پیداوار کے شعبے میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور جے ایف 17 اس پیش رفت کی ایک روشن مثال ہے۔ تاہم وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ کن ممالک کے ساتھ معاہدے طے پانے جا رہے ہیں۔
سیاسی امور پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے محمود خان اچکزئی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے دوستانہ تعلقات کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کے نواز شریف اور ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ اگرچہ بعض سیاسی معاملات پر اختلاف رائے موجود ہو سکتا ہے، لیکن محمود خان اچکزئی کی سیاست ایک مسلمہ حقیقت ہے اور ان کے سیاسی کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر دفاع نے اس سے قبل دنیا نیوز سے ایک اور خصوصی گفتگو میں ملکی سیاسی صورتحال پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والے دو نمبری نہیں بلکہ پانچ نمبری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں ذاتی مفادات اور شخصیات کے بجائے ملک کو محور بنانا چاہیے تاکہ جمہوری نظام مضبوط ہو سکے۔
خواجہ آصف نے امید ظاہر کی کہ محمود خان اچکزئی کی تقرری سے ایوان کا وقار اور تقدس برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دعا گو ہیں کہ پارلیمنٹ میں مثبت سیاسی ماحول قائم ہو اور جمہوری روایات کو فروغ ملے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ سینیٹ میں بھی اپوزیشن لیڈر کا تقرر جلد کر لیا جائے گا۔
گفت و شنید کے حوالے سے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر معاملات نیک نیتی سے طے کیے جائیں تو بڑے سے بڑا مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر سے متعلق مسئلہ بھی بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور حکومت اس ضمن میں سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ تمام سیاسی قوتیں ذاتی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے کریں، تاکہ جمہوری عمل مضبوط ہو اور ملک سیاسی و معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔
21