خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf نے تصدیق کی ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایران کے 12 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
آبنائے ہرمز پر اہم اتفاق
رپورٹس کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ Abbas Araghchi عمان پہنچے جہاں علاقائی سلامتی اور بحری گزرگاہوں کے تحفظ سے متعلق بات چیت ہوئی۔
باقر قالیباف کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ تصادم یا کشیدگی سے بچنے کے لیے جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے رابطہ اور رابطہ کاری کا ایک نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
لبنان سے متعلق بھی پیش رفت
ایرانی اسپیکر نے بتایا کہ مذاکرات میں لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی ضمانت سے متعلق نکات پر بھی اتفاق رائے پایا گیا، جسے خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکا کی جانب سے بڑی رعایت
دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تیل کی پیداوار، فروخت اور ترسیل کے لیے 60 روزہ عارضی جنرل لائسنس جاری کر دیا ہے۔
اس لائسنس کے تحت ایران کو محدود مدت کے لیے عالمی منڈی میں تیل کی فروخت کی اجازت حاصل ہوگی، تاہم اس رعایت کو مذاکراتی پیش رفت اور ایرانی وعدوں سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔
پابندیاں مکمل ختم نہیں ہوئیں
امریکی وزیر خزانہ Scott Bessent کے مطابق بعض پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ شمالی کوریا، کیوبا اور یوکرین سے متعلق ایرانی تیل کی خرید و فروخت پر عائد پابندیوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اگر منجمد اثاثوں کی رہائی اور تیل برآمدات میں نرمی عملی شکل اختیار کرتی ہے تو ایران کی معیشت کو نمایاں ریلیف مل سکتا ہے۔
ان کے مطابق اس پیش رفت سے عالمی تیل مارکیٹ میں بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی ممکنہ رہائی ایران کے لیے صرف مالی فائدہ نہیں بلکہ ایک بڑی سفارتی کامیابی بھی تصور کی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق امریکی لائسنس اور آبنائے ہرمز پر پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فریقین کم از کم محدود تعاون کی جانب بڑھ رہے ہیں، تاہم حتمی نتائج کا انحصار آئندہ مذاکرات پر ہوگا۔