اسلام آباد (ویب ڈیسک) – 1 اپریل 2026وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کر دیا ہے۔ وزیر پیٹرولیم اور وزیر خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 184 روپے 49 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول اب 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ آج وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عالمی منڈیوں کی صورتحال کے پیش نظر سبسڈی صرف مخصوص طبقے کو دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ خلیج جنگ کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھونچال آیا ہوا ہے۔ پاکستان دبئی اور عمان سے 90 فیصد تیل حاصل کرتا ہے جہاں قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ڈیزل کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 250 ڈالر فی بیرل سے زائد ہو چکی ہے۔
وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے موٹر سائیکل والوں کے لیے سبسڈی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے موٹر سائیکل والوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی مقرر کی ہے۔ ہر ماہ 20 لیٹر پیٹرول سبسڈی پر دیا جائے گا اور اس کا اطلاق تین ماہ کے لیے ہوگا۔ اس طرح موٹر سائیکل والوں کو ماہانہ 2 ہزار روپے کی سبسڈی ملے گی۔
چھوٹے ذمینداروں کے لیے فصل کی کٹائی کے وقت ایک بار 1500 روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ انٹر سٹی مسافر گاڑیوں اور مال بردار گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر، مال بردار ٹرک کے لیے ماہانہ 70 ہزار روپے، بڑی مال بردار گاڑیوں کے لیے 80 ہزار روپے اور مسافر بسوں کے لیے ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی مقرر کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت ایک ماہ بعد سبسڈی کے حوالے سے دوبارہ نظر ثانی کرے گی۔ ریلوے کو بھی سبسڈی دی جائے گی جس کا فائدہ لوئر کلاس کے مسافروں کو ہوگا۔
حکومت نے مارکیٹوں کے اوقات میں بھی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بجلی کی کھپت اور ایندھن کو بچایا جا سکے۔ مارکیٹ کے نئے اوقات صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد اگلے ہفتے تک طے کر لیے جائیں گے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت اس صورتحال سے نکلنے کے لیے مشکل اور ذمہ دارانہ فیصلے کر رہی ہے۔ مہنگائی کے طوفان کو برپا کرنے میں حکومت کا کردار نہیں ہے البتہ دو سال میں کابینہ نے معاشی استحکام اور جامع پائیداری کے لیے جو اقدامات کیے وہ عالمی صورتحال کی وجہ سے رک گئے ہیں۔
صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق حکومت کا یہ فیصلہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کا براہ راست نتیجہ ہے۔ 137 روپے 23 پیسے کا اضافہ پیٹرول کی تاریخ کا سب سے بڑا یک وقتی اضافہ ہے۔ موٹر سائیکل والوں کو ماہانہ 20 لیٹر سبسڈی (تقریباً 2000 روپے) دینا ایک اچھا قدم ہے جو کم آمدنی والے طبقے کو کچھ ریلیف دے سکتا ہے۔
تاہم بڑی گاڑیوں والوں پر مکمل بوجھ ڈالنے سے ٹرانسپورٹ اور مال براری کی لاگت بڑھے گی جو بالآخر عام شہری تک مہنگائی کی شکل میں منتقل ہوگی۔ حکومت کو اب سبسڈی کی شفاف تقسیم اور مارکیٹوں کے اوقات میں تبدیلی جیسے اقدامات کو موثر بنانا ہوگا تاکہ معاشی دباؤ کو کم سے کم رکھا جا سکے۔
آپ کو حکومت کا یہ فیصلہ کیسا لگا؟ کیا موٹر سائیکل والوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر سبسڈی کافی ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!