عمران خان کا آنکھوں کے سپیشلسٹ سے چیک اپ اور بچوں سے رابطہ کروایاجائے:سپریم کورٹ

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ عمران خان کو ماہر امراضِ چشم تک رسائی دی جائے اور انہیں اپنے بچوں سے رابطے کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔
عدالت عظمیٰ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور بیرسٹر سلمان صفدر بھی عدالت میں موجود تھے۔ سماعت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
کارروائی کے دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو روسٹرم پر طلب کرتے ہوئے کہا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس میں مماثلت پائی جاتی ہے، اور رپورٹ کا پیراگراف نمبر 21 پڑھ کر سنایا جائے۔
عدالت میں پڑھی گئی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ کھانے کی سہولیات کو بھی تسلی بخش قرار دیا۔ تاہم انہوں نے طبی سہولیات کو ناکافی بتایا اور ماہر آنکھوں کے ڈاکٹر سے معائنے کی درخواست کی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چونکہ بانی پی ٹی آئی ریاستی تحویل میں ہیں، اس لیے انہیں دیگر قیدیوں کی طرح مساوی طبی سہولیات ملنی چاہییں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کسی ایک قیدی کو دوسروں پر فوقیت دینے کا حکم نہیں دے گی، بلکہ سب کے ساتھ یکساں برتاؤ ضروری ہے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ حکومت ماہر امراضِ چشم تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت مثبت رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، اس لیے بانی پی ٹی آئی کو بچوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی سہولت بھی دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنکھوں کے مسئلے کے پیشِ نظر فی الحال کتابوں کی فراہمی کا حکم نہیں دیا جا رہا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ جلد از جلد ماہر ڈاکٹروں تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ اقدامات دو سے تین روز میں مکمل کر لیے جائیں گے۔
اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری تک ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں سے معائنہ اور بچوں سے فون پر رابطے کی سہولت فراہم کر دی جائے گی، اور اس یقین دہانی کو عدالتی حکم کا حصہ بنا لیا گیا۔
سماعت کے دوران فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر نے درخواست کی کہ آنکھوں کے معائنے کے وقت کسی فیملی رکن کو بھی موجود رہنے کی اجازت دی جائے، تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ایسا حکم جاری نہیں کر سکتی۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالجین تک رسائی دینے کی اجازت دی، مگر خاندان کے فرد کی موجودگی میں معائنہ کرانے کی استدعا مسترد کر دی۔
سلمان صفدر نے مزید استدعا کی کہ بانی پی ٹی آئی کو اضافی کتابیں فراہم کی جائیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ڈاکٹر اجازت دیں تو کتابوں کی فراہمی ممکن ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صحت کا معاملہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور اس میں عدالت کی مداخلت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس بارے میں حکومت کا مؤقف جاننا چاہتے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اگر کوئی قیدی فراہم کردہ سہولیات سے مطمئن نہیں تو ریاست مناسب اقدامات کرے گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں سے ٹیلیفونک رابطہ بھی ایک اہم معاملہ ہے اور عدالت حکومت پر اعتماد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معائنے کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ عدالت نے اس موقع پر بچوں سے بات کروانے کی ہدایت بھی جاری کی۔
عدالت نے حکم دیا کہ یہ دونوں اقدامات 16 فروری سے پہلے مکمل کیے جائیں۔
اس سے قبل جیل میں دستیاب سہولیات سے متعلق ایک رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی تھی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے فوری معائنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ انہوں نے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے معائنہ کرانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ساتھ ہی یہ سفارش بھی کی گئی کہ کسی ماہر ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے فرینڈ آف دی کورٹ کو بتایا کہ وہ دو سال چار ماہ سے قید میں ہیں۔ ان کے مطابق اکتوبر 2025 تک ان کی بینائی 6/6 تھی، تاہم بعد ازاں نظر دھندلانا شروع ہوگئی۔ پہلے دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی اور پھر دیکھنے کی صلاحیت مزید کم ہو گئی۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں بلڈ کلاٹ کی تشخیص سے آگاہ کیا گیا۔ ایک آنکھ کی کمزور بینائی پر وہ خاصے پریشان دکھائی دیے۔ رپورٹ میں ذکر ہے کہ ملاقات کے دوران ان کی آنکھوں سے مسلسل پانی بہتا رہا اور وہ بار بار ٹشو پیپر سے صاف کرتے رہے، جس سے وہ تکلیف میں محسوس ہو رہے تھے۔
فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر نے اپنی رپورٹ میں سیل میں مچھروں اور کیڑوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے سفارش کی کہ خوراک کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک ریفریجریٹر فراہم کیا جائے کیونکہ یہ بنیادی انسانی ضروریات میں شامل ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ قیدِ تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کے باعث بانی پی ٹی آئی کو کتابوں کی فراہمی کا حکم دیا جانا چاہیے۔