ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرط سامنے رکھ دی

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری تصادم اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک ایران میدانِ جنگ میں ایسی برتری حاصل نہ کر لے جو اس کے قومی مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کی موجودہ حکمت عملی فوجی اور سفارتی دونوں محاذوں پر اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنا ہے، اور مستقبل کی کسی بھی بات چیت کا انحصار میدانِ جنگ کی صورتحال پر ہوگا۔

ایران اپنی شرائط پر مذاکرات چاہتا ہے

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران صرف اسی صورت میں مذاکرات کی طرف جائے گا جب اسے میدانِ جنگ میں اپنی شرائط کے مطابق مؤثر برتری حاصل ہوگی۔

ان کے مطابق جنگ کے خاتمے کا فیصلہ بھی اسی وقت ممکن ہوگا جب ایران ایسی پوزیشن میں ہوگا جو اس کے مفادات اور سلامتی کی ضمانت دے سکے۔

امریکہ کا مؤقف

دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اپنی قومی سلامتی اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے ضروری کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ خطے میں اپنے مفادات اور اتحادی ممالک کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

حالیہ حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ

حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں کے بعد کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

عالمی برادری کی جنگ بندی کی اپیل

اقوام متحدہ سمیت متعدد ممالک مسلسل دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کی اپیل کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق موجودہ کشیدگی اگر مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق عباس عراقچی کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران اس وقت اپنی سفارتی حکمت عملی کو فوجی صورتحال سے جوڑ رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ بھی بیک وقت فوجی دباؤ اور سفارتی راستہ کھلا رکھنے کی بات کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کی ثالثی کی کوششیں آئندہ دنوں میں کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، تاہم میدان میں ہونے والی پیش رفت دونوں فریقوں کے مؤقف پر اثرانداز ہوگی۔

آپ کے خیال میں کیا ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشیدگی مذاکرات کے ذریعے ختم ہو سکتی ہے یا تصادم مزید شدت اختیار کرے گا؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔