خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تو امریکا کے پاس ایران کو نشانہ بنانے کے لیے ایک ہزار میزائل تیار ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس کے بعد مزید ہزاروں میزائل بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا، جہاں انہوں نے ایران کو ممکنہ نتائج سے خبردار کیا۔
ٹرمپ کا سخت پیغام
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکی فوج کو پہلے ہی واضح ہدایات دے رکھی ہیں کہ اگر ان پر ایران کی جانب سے کسی بھی نوعیت کا قاتلانہ حملہ کیا جاتا ہے تو اس کا فوری، فیصلہ کن اور انتہائی سخت فوجی جواب دیا جائے۔
ان کے مطابق امریکا اپنی قومی سلامتی اور قیادت کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
کشیدگی کے دوران بیان سامنے آیا
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی اور سفارتی تناؤ ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران میں ہونے والے بعض اجتماعات کے دوران ٹرمپ کے خلاف سخت نعرے لگائے گئے، جس کے بعد امریکی حکام نے ممکنہ سیکیورٹی خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔
ایران کا مؤقف
ایرانی حکام ماضی میں بھی ٹرمپ کے اس نوعیت کے بیانات کو اشتعال انگیز قرار دیتے رہے ہیں۔
تہران کا مؤقف ہے کہ ایسے بیانات خطے میں کشیدگی کم کرنے کے بجائے مزید بڑھانے کا باعث بنتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ اب بھی برقرار ہے۔
خطے کی صورتحال
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی سفارتی ماحول اور توانائی کی منڈیوں پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی نئے تصادم کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ بیانات دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود گہری کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم اس مرحلے پر سخت بیانات کو دونوں فریقوں کے سرکاری مؤقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سفارتی کوششیں ہی صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
آپ کے خیال میں کیا امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی سفارتی مذاکرات کو متاثر کرے گی یا دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔