امریکہ باز نہ آیا تیل کی قیمتیں 140 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہیں:محمد باقر قالیباف

تہران کی فضا میں ایک بار پھر عالمی سیاست اور توانائی کی منڈی کا شور گونجنے لگا ہے۔ امریکی دباؤ، ایرانی ردعمل اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کے درمیان صورتحال نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں الفاظ بھی ہتھیار بن چکے ہیں اور اعداد و شمار بھی۔

ایران کی پارلیمنٹ کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت محدود کرنے کی کوششوں کے باوجود ملک کو کسی بڑے بحران کا سامنا نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ
حالات ایسے نہیں کہ تیل کے ذخائر اپنی مکمل حد تک بھر جائیں یا نظام درہم برہم ہو جائے۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی اقدامات کا اصل اثر عالمی منڈی پر پڑا ہے، جہاں تیل کی قیمتیں اوپر کی جانب گئی ہیں، تاہم ایران کے اندر صورتحال قابو میں ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ تین دن گزرنے کے باوجود نہ کوئی تیل کا کنواں متاثر ہوا اور نہ ہی پیداوار میں خلل آیا، بلکہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اس صورتحال کو مزید طول دے سکتے ہیں اور کنوؤں کی براہ راست نشریات بھی دکھا سکتے ہیں۔

قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ اور دیگر حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف اپنائی گئی حکمت عملی حقیقت سے دور اور غلط اندازوں پر مبنی ہے۔ ان کے بقول، پابندیوں اور ناکہ بندی جیسے خیالات کو فروغ دینے والوں نے خود عالمی منڈی میں بے چینی پیدا کی ہے۔

انہوں نے مزید خبردار کیا کہ انہی پالیسیوں کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں پہلے ہی 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں اور اگر یہی روش جاری رہی تو یہ 140 ڈالر تک بھی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ کسی ایک پالیسی کا نہیں بلکہ سوچ کے اس انداز کا ہے جو حقائق کو نظر انداز کر کے فیصلے کرتا ہے۔

ایران کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی مارکیٹ پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور بڑی طاقتوں کے بیانات اس بے چینی میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔