عثمان طارق کے ایکشن پر اعتراض، امپائر نے فیصلہ سنا دیا

لاہور (اسپورٹس ڈیسک) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں ایڈیشن میں سنسنی خیز مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز کراچی میں کھیلے گئے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم نے راولپنڈی کو ۶۱ رنز سے شکست دی۔

اس میچ کے دوران ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جب نویں اوور میں ڈیرل مچل نے مسلسل دو مرتبہ عثمان طارق کی گیند کھیلنے سے انکار کر دیا۔

اس حوالے سے پچ سائیڈ پوسٹ میچ شو میں عثمان طارق نے بتایا کہ ڈیرل مچل پیچھے ہٹا تو مجھے لگا کہ سامنے اسکرین کے پاس کوئی مسئلہ ہوا ہوگا لیکن جب دوسری مرتبہ وہ ہٹا تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہوا ہے۔

جس پر ڈیرل مچل نے کہا کہ تم وقفہ لے رہے ہو، تو میں نے کہا کہ میں تو تیسری، چوتھی مرتبہ بھی وقفہ لوں گا، اب یہ تم پر منحصر ہے کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔

عثمان طارق نے بتایا کہ پھر امپائر نے ڈیرل مچل سے کہا کہ آپ ایسے نہیں کر سکتے، عثمان کا ایکشن قانون کے مطابق ہے۔

واضح رہے کہ عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کو لے کر عالمی میڈیا میں کافی بحث ہو چکی ہے۔ بھارتی میڈیا ان پر پابندی کا مطالبہ کرتا رہا ہے تاہم ماہرین آئی سی سی قوانین کے مطابق ان کے ایکشن کو بالکل درست قرار دیتے ہیں۔

 یہ واقعہ پی ایس ایل میں کھیل کی روح اور قوانین کی پاسداری کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ڈیرل مچل کا دو بار کھیلنے سے انکار کرنا ایک غیر معمولی رویہ تھا جس پر امپائر کو مداخلت کرنا پڑی۔

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق درست ہے، پھر بھی اس پر بحث جاری رہنا کرکٹ کی دنیا میں ایکشن کی شفافیت پر سوالات اٹھاتا ہے۔

پی ایس ایل جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں ایسے واقعات کھیل کی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ امپائرز اور سلیکٹرز کو ایسے معاملات میں سخت اور شفاف فیصلے کرنے چاہییں تاکہ کھلاڑیوں کے درمیان تناؤ کم ہو۔

آپ کو ڈیرل مچل کا یہ رویہ کیسا لگا؟ کیا عثمان طارق کے ایکشن پر اب بھی شکوک و شبہات ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!