اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ، 15 افراد شہید، 80 سے زائد زخمی

اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی میں واقع ایک امام بارگاہ کے مرکزی گیٹ پر ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 80 سے زائد افراد زخمی ہو گئے، جن میں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

دھماکا اتنا شدید تھا کہ امام بارگاہ سے متصل گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے، جبکہ خودکش حملہ آور کی باقیات تاحال جائے وقوعہ پر موجود تھیں۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو ٹیمیں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔

آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر شہر بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ پولی کلینک، پمز اور سی ڈی اے اسپتال میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

پولیس ذرائع کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت اور شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہے، جبکہ رینجرز اور پاک فوج کے جوان بھی سیکیورٹی اقدامات کے لیے موقع پر پہنچ گئے۔ زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں مین ایمرجنسی، آرتھوپیڈک، برن سینٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ کو فعال کر دیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے 23 افراد کو پمز اور 11 افراد کو پولی کلینک اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز کو مختلف اسپتالوں میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ علاج معالجے کے عمل کی نگرانی کی جا سکے۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق جائے وقوعہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری پمز اسپتال پہنچے، جہاں انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی اور خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت زخمیوں کو ہر ممکن علاج فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے ملاقات میں واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کی فوری نشاندہی کی ہدایت کی، جبکہ وزیر صحت کو خود علاج معالجے کی نگرانی کرنے کا حکم دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دھماکے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور ملک میں شرپسندی اور بدامنی پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجا ناصر عباس نے ترلائی میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والا یہ افسوسناک دھماکا اور بے گناہ نمازیوں کی شہادت نہایت دلخراش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں اس نوعیت کی دہشت گردی سیکیورٹی اور شہریوں کے تحفظ میں سنگین ناکامی کی عکاس ہے۔