ورلڈ کپ فائنل میں اسپین کا تاریخی کارنامہ، ارجنٹینا کو اضافی وقت میں شکست

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سنسنی خیز فائنل میں اسپین نے دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کو اضافی وقت میں 1-0 سے شکست دے کر دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

امریکا میں کھیلے گئے اس تاریخی مقابلے کا فیصلہ 106ویں منٹ میں اس وقت ہوا جب فیران ٹوریس نے قریب سے طاقتور شاٹ کے ذریعے گیند جال میں پہنچا کر اسپین کو یادگار فتح دلا دی۔

سخت مقابلہ، کم مواقع

فائنل سے شائقین کو ہائی اسکورنگ مقابلے کی توقع تھی، تاہم میچ کے دوران سخت ٹکراؤ، مسلسل فاؤلز اور بار بار کھیل رکنے کے باعث دونوں ٹیموں کو کھل کر کھیلنے کے کم مواقع ملے۔

اس کے باوجود اسپین نے آغاز ہی سے بہتر کھیل پیش کیا اور کئی خطرناک حملے کیے، لیکن ارجنٹینا کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز بار بار شاندار سیوز کرکے اپنی ٹیم کو بچاتے رہے۔

اینزو فرنانڈیز کا ریڈ کارڈ فیصلہ کن ثابت ہوا

ارجنٹینا کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب مقررہ وقت کے اختتامی لمحات میں اینزو فرنانڈیز خطرناک ٹیکل پر دوسرا پیلا کارڈ ملنے کے بعد میدان سے باہر بھیج دیے گئے۔

دفاعی چیمپئن کو اضافی وقت میں صرف 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا، جس کا فائدہ اسپین نے بھرپور انداز میں اٹھایا۔

فیران ٹوریس نے فیصلہ سنا دیا

اضافی وقت میں بھی مارٹینیز نے کئی یقینی گول بچائے، لیکن 106ویں منٹ میں نیکو ولیمز کے ہیڈر کے بعد گیند فیران ٹوریس تک پہنچی، جنہوں نے زوردار شاٹ لگا کر اسپین کے لیے فیصلہ کن گول اسکور کر دیا۔

اسپین کی جانب سے لامین یامال، میکل اویارزابال اور نیکو ولیمز مسلسل ارجنٹائن کے دفاع کے لیے خطرہ بنے رہے، جبکہ نیکو ولیمز کا ایک گول فاؤل کے باعث مسترد بھی کر دیا گیا۔

فائنل کی رنگا رنگ تقریب

فائنل میچ صرف کھیل تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے ساتھ شاندار تفریحی پروگرام بھی منعقد کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خصوصی طور پر اسٹیڈیم پہنچے، جبکہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہاف ٹائم شو کا انعقاد کیا گیا، جس میں شکیرا، میڈونا اور جسٹن بیبر کی پرفارمنس نے شائقین کو خوب محظوظ کیا۔

میچ کے اختتام پر ٹرمپ نے فاتح ٹیم کو ٹرافی اور میڈلز پیش کیے، جبکہ فیفا کی جانب سے اسپین کے ہر کھلاڑی کو خصوصی یادگاری انگوٹھی بھی دی گئی۔

اسپین نے منفرد عالمی اعزاز بھی اپنے نام کر لیا

اس فتح کے ساتھ اسپین نے نہ صرف اپنی تاریخ کا دوسرا مردوں کا ورلڈ کپ جیتا بلکہ ایک منفرد ریکارڈ بھی قائم کیا۔

اسپین فٹبال کی تاریخ کا پہلا ملک بن گیا ہے جس کے پاس بیک وقت مردوں اور خواتین دونوں کے فیفا ورلڈ کپ ٹائٹلز موجود ہیں۔

یہ اسپین کا 2010 کے بعد دوسرا عالمی ٹائٹل ہے۔

میسی کا آخری ورلڈ کپ؟

دوسری جانب ارجنٹینا ساتویں مرتبہ ورلڈ کپ فائنل میں پہنچا تھا اور مسلسل دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کا خواہاں تھا، تاہم اس مرتبہ کامیابی اس کے حصے میں نہ آ سکی۔

یہ مقابلہ لیونل میسی کے ممکنہ آخری ورلڈ کپ میچ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا تھا، جس کے باعث دنیا بھر کے شائقین کی نظریں اس فائنل پر مرکوز تھیں، تاہم میسی اپنی ٹیم کو ایک اور عالمی اعزاز دلانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق اسپین نے پورے ٹورنامنٹ میں متوازن، جارحانہ اور منظم فٹبال کھیل کر ثابت کیا کہ وہ موجودہ دور کی مکمل ٹیم ہے۔ فائنل میں بھی اسپین نے عددی برتری کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور صبر کے ساتھ کھیلتے ہوئے فیصلہ کن لمحے کا انتظار کیا۔ دوسری جانب ارجنٹینا نے بھرپور مزاحمت کی، لیکن ایک کھلاڑی کم ہونے کے بعد دفاعی دباؤ برداشت نہ کر سکی۔ یہ فتح اسپین کے فٹبال کے سنہری دور کی ایک نئی علامت بن گئی۔

آپ کے خیال میں کیا اسپین آنے والے برسوں میں بھی عالمی فٹبال پر اپنی حکمرانی برقرار رکھ سکے گا؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔