ایران پر آج حملہ ہونے والا تھا مگر سعودی عرب، قطر اور امارات نے رکوا دیا، ٹرمپ

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

Donald Trump نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ Iran پر آج ممکنہ فوجی حملہ کیا جانا تھا، تاہم Saudi Arabia، United Arab Emirates اور Qatar کی قیادت کی درخواست پر کارروائی مؤخر کر دی گئی۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے تمام فوجی تیاریاں مکمل تھیں اور عسکری حکام کو ضروری ہدایات بھی جاری کی جا چکی تھیں۔

Donald Trump کے مطابق قطر کے امیر Tamim bin Hamad Al Thani، سعودی ولی عہد Mohammed bin Salman اور اماراتی صدر Mohamed bin Zayed Al Nahyan نے یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ایک قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کی امید موجود ہے۔

“ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں”

امریکی صدر نے کہا کہ ممکنہ معاہدے کی سب سے اہم شرط یہ ہوگی کہ Iran کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth اور دیگر عسکری حکام کو فی الحال حملہ روکنے کی ہدایت دے دی گئی ہے، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی فوج کسی بھی وقت کارروائی کر سکتی ہے۔

خلیج میں ہائی الرٹ صورتحال

رپورٹس کے مطابق امریکی اور مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ United States نے ایران کے خلاف محدود اور بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیوں کے مختلف آپشنز تیار کر رکھے تھے۔

بعض رپورٹس میں کہا گیا کہ امریکی بحریہ اور فضائیہ کو خلیجی خطے میں ہائی الرٹ پر رکھا گیا تھا جبکہ Israel بھی ممکنہ مشترکہ کارروائی پر غور کر رہا تھا۔

خلیجی ممالک جنگ سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق Qatar، Saudi Arabia اور United Arab Emirates کسی بڑے جنگی تصادم سے بچنا چاہتے ہیں کیونکہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ پورے خلیجی خطے، عالمی تیل تجارت اور معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ Strait of Hormuz میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل سپلائی اور توانائی مارکیٹ کو شدید متاثر کر سکتی ہے، اسی لیے خلیجی ممالک سفارتی حل کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں معمولی غلطی بھی بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الحال حملہ روک دیا گیا ہے، لیکن امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور آنے والے دنوں میں صورتحال کسی بھی سمت جا سکتی ہے۔