جنگ جاری ہے، اب حملے مزید شدت سے کیے جائیں گے، ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں مزید شدت آنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے چند ہفتے نہایت فیصلہ کن ثابت ہوں گے اور ممکنہ طور پر فوجی کارروائیوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکی افواج نے ایران کے اہم عسکری ڈھانچے کو نمایاں نقصان پہنچایا اور متعدد اہم اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق جاری آپریشن اپنے اہم مراحل طے کر چکا ہے اور اب اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے لاحق خطرات میں واضح کمی آئی ہے اور اس کے اسٹریٹجک عزائم کو بھی خاصا دھچکا پہنچا ہے، تاہم مکمل اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران کی توانائی تنصیبات بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتی ہیں۔

امریکی صدر نے ایرانی حکومت پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں عوامی مظاہروں کو طاقت کے ذریعے دبایا جاتا رہا، تاہم انہوں نے اپنے ان دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے۔

خطاب کے دوران انہوں نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادی ممالک—سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین—کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ امریکا خطے میں اپنے شراکت داروں کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔

تیل کی عالمی منڈی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب توانائی کے شعبے میں بڑی حد تک خود کفیل ہو چکا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کے تیل پر پہلے جیسا انحصار نہیں رہا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آیا، تاہم توقع ظاہر کی کہ صورتحال جلد مستحکم ہو جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ جاری تنازع اپنے آخری مراحل میں داخل ہو رہا ہے اور جیسے ہی کشیدگی میں کمی آئے گی، اہم بحری گزرگاہیں، بالخصوص آبنائے ہرمز، ازخود بحال ہو جائیں گی۔