لاہور:نہایت سینئر اور معروف کلاسیکل غزل گو گلوکارہ ترنم ناز نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے دکھ سے مداحوں کو آگاہ کرتے ہوئے ایک ایسی حقیقت بیان کی ہے جو بہت سے والدین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
لیجنڈری کلاسیکل گلوکاراؤں میں شمار ہونے والی ترنم ناز نے حال ہی میں ایک ٹیلی وژن شو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے نہایت کھلے دل کے ساتھ اپنی ذاتی زندگی اور تلخ تجربات پر گفتگو کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے کمائی گئی رقم سے زمین خریدی اور پھر اپنی پسند اور خوابوں کے مطابق ایک گھر تعمیر کیا۔
ترنم ناز کے مطابق اُس وقت ان کے بچے کم عمر تھے، اس لیے انہوں نے یہ گھر بچوں کے نام منتقل کر دیا، یہ سوچ کر کہ گھر اگر میرے نام ہو یا بچوں کے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تاہم وقت کے ساتھ حالات بدل گئے۔
انہوں نے دکھ بھرے لہجے میں بتایا کہ جب بچے بڑے ہوئے اور ان کی شادیاں ہو گئیں تو انہوں نے اسی گھر میں اپنے حصے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ اس موقع پر ترنم ناز نے ایک گہری بات کی طرف توجہ دلائی کہ والدین کی حیثیت اور عزت اُس وقت مختلف ہوتی ہے جب وہ خود اپنی جائیداد کے مالک ہوں۔
گلوکارہ نے اعتراف کیا کہ گھر بچوں کے نام کرنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی، ایک ایسی غلطی جس کا دکھ وہ زندگی بھر محسوس کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بچے آج بھی تابعدار ہیں، مگر اگر گھر ان ہی کے نام رہتا تو حالات یقیناً زیادہ بہتر اور مختلف ہوتے۔
واضح رہے کہ ترنم ناز اپنی پاورفل آواز، کلاسیکل غزلوں اور پی ٹی وی کے یادگار گانوں کی وجہ سے آج بھی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ وہ نامور استاد عاشق حسین کی شاگردہ رہ چکی ہیں اور ان کی آواز میں عظیم گلوکارہ میڈم نور جہاں کی جھلک بھی محسوس کی جاتی ہے۔ کلاسیکل موسیقی میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان انہیں پرائڈ آف پرفارمنس جیسے اعلیٰ اعزاز سے بھی نواز چکی ہے۔
یہ انکشاف نہ صرف ایک فنکارہ کی ذاتی کہانی ہے بلکہ ہر اس والدین کے لیے ایک خاموش پیغام بھی ہے جو محبت میں آ کر مستقبل کے فیصلے جلدی کر بیٹھتے ہیں۔