سوشل میڈیا کے دور میں محبت کے قصے تیزی سے بنتے اور بگڑتے ہیں، مگر ایک ایسا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے سب کو حیران کر دیا۔
بھارت میں ایک ۳۵ سالہ شخص نے نہ صرف کئی لڑکیوں بلکہ سیکڑوں خواتین کو بیک وقت محبت کے جال میں پھنسایا اور آخرکار قانون کے شکنجے میں آ گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس نے آنند نامی ملزم کو گرفتار کیا، جس پر الزام ہے کہ وہ مختلف شناختیں اختیار کر کے خواتین کو دھوکا دیتا رہا۔ کبھی وہ خود کو ڈاکٹر ظاہر کرتا، تو کبھی فلم پروڈیوسر، وکیل یا کامیاب بزنس مین بن کر سامنے آتا۔
اس نے جعلی سوشل میڈیا اور ڈیٹنگ ایپس پر متعدد پروفائلز بنا رکھے تھے، جن کے ذریعے وہ سادہ لوح لڑکیوں سے رابطہ کرتا اور انہیں محبت اور شادی کے خواب دکھاتا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نہایت چالاکی سے پہلے جذباتی تعلق قائم کرتا، پھر کسی نہ کسی بہانے جیسے میڈیکل ایمرجنسی یا کاروباری نقصان کا جواز بنا کر رقم طلب کرتا اور پیسے ملتے ہی غائب ہو جاتا۔ اس نے بعض متاثرہ خواتین کو ماڈلنگ یا معروف اداروں میں داخلے کے جھانسے بھی دیے اور یوں انہیں مالی نقصان پہنچایا۔
تحقیقات کے مطابق اس شخص نے ایک یا دو نہیں بلکہ ۵۰۰ سے زائد خواتین کو اپنا نشانہ بنایا اور ان سے مجموعی طور پر تقریباً ۲ کروڑ روپے بٹور لیے۔ اس کا یہ منظم فراڈ اس وقت بے نقاب ہوا جب ایک متاثرہ لڑکی نے پولیس سے رجوع کیا، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاری کے دوران پولیس نے اس کے قبضے سے چار اسمارٹ فونز، آٹھ سم کارڈز، تین ڈیبٹ کارڈز، سونے کے بریسلیٹس اور چین اور کئی قیمتی چینز برآمد کیں، جو مبینہ طور پر دھوکا دہی سے حاصل کی گئی رقم سے خریدی گئی تھیں۔ ڈیجیٹل شواہد سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملزم بیک وقت کئی جعلی شناختوں کے ساتھ مختلف ریاستوں میں خواتین سے رابطے میں تھا۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے اور اس نیٹ ورک میں شامل ممکنہ ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ آن لائن تعلقات میں احتیاط نہ برتی جائے تو اعتماد بھی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
آنند نامی اس بہروپیے کا طریقہ کار نہایت منظم اور خطرناک تھا۔ وہ مختلف جعلی شناختوں کے ذریعے خواتین کے جذبات سے کھیلتا اور انہیں مالی طور پر لوٹتا رہا۔ ۵۰۰ سے زائد متاثرین کا ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں دھوکہ دہی کتنی آسان ہو گئی ہے۔
دہلی پولیس کی کارروائی قابل تعریف ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا اور ڈیٹنگ ایپس پر ایسی فراڈیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ آن لائن تعلقات میں خاص احتیاط برتیں اور کسی سے بھی مالی لین دین سے پہلے مکمل تصدیق کریں۔
یہ واقعہ ڈیجیٹل سیکیورٹی اور آگاہی کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔
آپ کو یہ بہروپیا عاشق والا واقعہ کیسا لگا؟ کیا سوشل میڈیا پر محبت کے نام پر دھوکہ دہی اب بھی عام ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!